فاستمسك بالذي اوحي اليك انك على صراط مستقيم ٤٣
فَٱسْتَمْسِكْ بِٱلَّذِىٓ أُوحِىَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ٤٣
فَاسْتَمْسِكْ
بِالَّذِیْۤ
اُوْحِیَ
اِلَیْكَ ۚ
اِنَّكَ
عَلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ
۟

آیت 43 { فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِلَیْکَج اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ مضبوطی سے تھام لیجیے اس کو جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے ‘ یقینا آپ سیدھے راستے پر ہیں۔“ اسی فعل سے اسم الفاعل مُسْتَمْسِکُوْنَ اس سے قبل آیت 21 میں مشرکین کے حوالے سے آچکا ہے کہ کیا ان کے پاس اللہ کی دی ہوئی کوئی کتاب ہے جس کو وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟ پھر یہی لفظ نبی اکرم ﷺ کے خطبہحجۃ الوداع میں بھی آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمْسَکْتُمْ بِھِمَا : کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ 1 ”میں آپ لوگوں کے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ‘ اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ‘ اور وہ ہیں : اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔“