ما كان على النبي من حرج فيما فرض الله له سنة الله في الذين خلوا من قبل وكان امر الله قدرا مقدورا ٣٨ الذين يبلغون رسالات الله ويخشونه ولا يخشون احدا الا الله وكفى بالله حسيبا ٣٩ ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولاكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شيء عليما ٤٠
مَّا كَانَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ مِنْ حَرَجٍۢ فِيمَا فَرَضَ ٱللَّهُ لَهُۥ ۖ سُنَّةَ ٱللَّهِ فِى ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ قَدَرًۭا مَّقْدُورًا ٣٨ ٱلَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَـٰلَـٰتِ ٱللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُۥ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا ٱللَّهَ ۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبًۭا ٣٩ مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍۢ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا ٤٠
مَا
كَانَ
عَلَی
النَّبِیِّ
مِنْ
حَرَجٍ
فِیْمَا
فَرَضَ
اللّٰهُ
لَهٗ ؕ
سُنَّةَ
اللّٰهِ
فِی
الَّذِیْنَ
خَلَوْا
مِنْ
قَبْلُ ؕ
وَكَانَ
اَمْرُ
اللّٰهِ
قَدَرًا
مَّقْدُوْرَا
۟ؗۙ
لَّذِیْنَ
یُبَلِّغُوْنَ
رِسٰلٰتِ
اللّٰهِ
وَیَخْشَوْنَهٗ
وَلَا
یَخْشَوْنَ
اَحَدًا
اِلَّا
اللّٰهَ ؕ
وَكَفٰی
بِاللّٰهِ
حَسِیْبًا
۟
مَا
كَانَ
مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ
اَحَدٍ
مِّنْ
رِّجَالِكُمْ
وَلٰكِنْ
رَّسُوْلَ
اللّٰهِ
وَخَاتَمَ
النَّبِیّٖنَ ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمًا
۟۠
اِس واقعہ کے بعد حسب توقع آپ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ کہا جانے لگا کہ پیغمبر نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔ فرمایا کہ — محمد کا معاملہ تویہ ہے کہ ان کی صرف لڑکیاں ہیں۔ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔ زید بن حارثہ ان کے صرف منھ بولے بیٹے تھے اور منھ بولا بیٹا واقعی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے مطلقہ سے نکاح آپ کے لیے جائز نہ ہو۔
آپ خدا کے پیغمبر تھے، پھر بھی آپ کے ساتھ اتنے اتار چڑھاؤ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر پر اگرچہ خدا کی وحی آتی ہے۔ مگر اس کو عام انسانوں کی طرح رہنا ہوتاہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کو بھی ویسے ہی حالات پیش آتے ہیں جیسے حالات دوسروں کو پیش آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیغمبر کی زندگی عام انسانوں پر حجت نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرانہ رہنمائی حقیقی حالات کے ڈھانچہ میں دی جاتی ہے، نہ کہ مصنوعی حالات کے ڈھانچہ میں۔
خاتم النبیین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹيمپ (stamp) کےلیے نہیں آتا ہے بلکہ سیل (seal) کےلیے آتا ہے،یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طورپر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربي میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے (خاتِمُ القَوْم آخرُهم) لسان العرب، جلد 12 ، صفحہ 164 ۔اس واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی اور نبی آنے والا نہیں، اس ليے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کردیا جائے۔