ومن الليل فتهجد به نافلة لك عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا ٧٩
وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِۦ نَافِلَةًۭ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًۭا مَّحْمُودًۭا ٧٩
وَمِنَ
الَّیْلِ
فَتَهَجَّدْ
بِهٖ
نَافِلَةً
لَّكَ ۖۗ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّبْعَثَكَ
رَبُّكَ
مَقَامًا
مَّحْمُوْدًا
۟

تہجد کی نماز کی روح اللہ کو اپنی مخصوص تنہائیوں میں یاد کرنا ہے۔ تہجد کے لفظی معنی رات کی بیداری کے ہیں۔ رات کا وقت تنہائی اور سکون کاوقت ہوتا ہے۔ رات کو آدمی جب ایک نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ اس کے تمام اوقات میں سب سے بہتر وقت ہوتا ہے۔ ان لمحات میں آدمی جب خدا کی طرف متوجہ ہوتاہے اور نماز کی صورت میں ہاتھ باندھ کر خدا کے کلام کو پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنی عبدیت کی آخری تصویر بنا رہا ہوتا ہے۔ خاص طورپر اس وقت جب کہ اس کا دل بھی اس کا ساتھ دے رہا ہو اور ا س کی شخصیت اس طرح پگھل اٹھی ہو کہ وہ بے قرار ہو کر آنکھوں کے راستہ سے بہہ پڑے۔

مقام محمود کے لفظی معنی ہیں تعريف کیا ہوا مقام۔ اس محمودیت کا ایک دنیوی پہلو ہے اور ایک اس کا، اُخروی پہلو۔ اُخروی پہلو وہ ہے جس کو مفسرین شفاعت کبریٰ کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، قیامت کے دن تمام انبیاء اپنے مومنین کی شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت گویا ان کے مومن ہونے کی تصدیق ہوگی، جس کے بعد ان لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا، جن کو خدا جنت میں داخل کرنا چاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سب سے بڑی ہوگی۔ کیوںکہ اپنے امتیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ سب سے بڑی تعداد کی شفاعت فرمائیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محمودیت کا دنیوی پہلو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی تاریخ جمع ہوجائے کہ آپ تمام اقوام عالم کی نظر میں مسلمہ طور پر قابل ستائش اور لائق اعتراف بن جائیں۔ خدا کا یہ منصوبہ آپ کے حق میں مکمل طورپر پورا ہوا۔ آج دنیا کے تمام لوگ آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ کی نبوت ایک مسلّم نبوت بن چکی ہے، نہ کہ نزاعی نبوت جیسا کہ وہ آپ کے ظہور کے ابتدائی سالوں میں تھی۔

محمودی نبوت، دنیوی اعتبار سے مسلمہ (established) نبوت کا دوسرا نام ہے۔ یعنی ایسی نبوت جس کے حق میں تاریخی شہادتیں اتنی زیادہ کامل طورپر موجود ہوں کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں کسی کے لیے شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ انسان، خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق آپ کی حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اقرار واعتراف کی آخری صورت تعریف ہے، اس لیے اس کو ’’مقام محمود‘‘ کہاگیا ہے۔