وقل لعبادي يقولوا التي هي احسن ان الشيطان ينزغ بينهم ان الشيطان كان للانسان عدوا مبينا ٥٣
وَقُل لِّعِبَادِى يَقُولُوا۟ ٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ كَانَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا ٥٣
وَقُلْ
لِّعِبَادِیْ
یَقُوْلُوا
الَّتِیْ
هِیَ
اَحْسَنُ ؕ
اِنَّ
الشَّیْطٰنَ
یَنْزَغُ
بَیْنَهُمْ ؕ
اِنَّ
الشَّیْطٰنَ
كَانَ
لِلْاِنْسَانِ
عَدُوًّا
مُّبِیْنًا
۟

یہ آیت داعی اور مدعو کے نازک رشتہ کے بارے میں ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنی ہی سخت بات کہی جائے اور کتنا ہی اشتعال انگیز معاملہ کیا جائے، داعی کو ہر حال میں قول احسن کا پابند رہناہے۔ کیوں کہ داعی اگر جوابی ذہن کے تحت کارروائی کرے تو مدعو کے اندر مزید نفرت اور ضد کی نفسیات ابھرے گی۔ اور داعی اور مدعو کے درمیان ایسی کش مکش پیدا ہوگی کہ لوگ داعی کی بات کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننے کے قابل ہی نہ رہیں۔

داعی اور مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی فضا پیدا ہونا سراسر شیطان کی موافقت میں ہے تاکہ وہ حق کے پیغام کو لوگوں کے لیے ناقابل قبو ل بنا دے۔ اس لیے اگر داعی اپنے کسی فعل سے مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی نفسیات جگانے لگے تو گویا کہ اس نے شیطان کاکام کیا، اس نے اپنے دشمن کا کام خود اپنے ہاتھ سے انجام دے دیا۔