16:106 16:108 আয়াতের গ্রুপের জন্য একটি তাফসির পড়ছেন
من كفر بالله من بعد ايمانه الا من اكره وقلبه مطمين بالايمان ولاكن من شرح بالكفر صدرا فعليهم غضب من الله ولهم عذاب عظيم ١٠٦ ذالك بانهم استحبوا الحياة الدنيا على الاخرة وان الله لا يهدي القوم الكافرين ١٠٧ اولايك الذين طبع الله على قلوبهم وسمعهم وابصارهم واولايك هم الغافلون ١٠٨
مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَـٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَـٰنِ وَلَـٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًۭا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ١٠٦ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَـٰفِرِينَ ١٠٧ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَـٰرِهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَـٰفِلُونَ ١٠٨
مَنْ
كَفَرَ
بِاللّٰهِ
مِنْ
بَعْدِ
اِیْمَانِهٖۤ
اِلَّا
مَنْ
اُكْرِهَ
وَقَلْبُهٗ
مُطْمَىِٕنٌّۢ
بِالْاِیْمَانِ
وَلٰكِنْ
مَّنْ
شَرَحَ
بِالْكُفْرِ
صَدْرًا
فَعَلَیْهِمْ
غَضَبٌ
مِّنَ
اللّٰهِ ۚ
وَلَهُمْ
عَذَابٌ
عَظِیْمٌ
۟
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمُ
اسْتَحَبُّوا
الْحَیٰوةَ
الدُّنْیَا
عَلَی
الْاٰخِرَةِ ۙ
وَاَنَّ
اللّٰهَ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الْكٰفِرِیْنَ
۟
اُولٰٓىِٕكَ
الَّذِیْنَ
طَبَعَ
اللّٰهُ
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
وَسَمْعِهِمْ
وَاَبْصَارِهِمْ ۚ
وَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْغٰفِلُوْنَ
۟

آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓاس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ کسی کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس حالت میں کوئی کلمہ کفر اس کی زبان سے ادا ہوگیا مگر اس کا دل بدستور حالت ایمان میں مطمئن رہا تو ایسا شخص اللہ کے ہاں معذور سمجھا جائے گا۔وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌاوپر بیان کیے گئے استثناء کے مطابق مجبوری کی حالت میں تو کلمہ کفر کہنے والے کو معاف کردیا جائے گا بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو مگر جو شخص کسی وجہ سے پورے شرح صدر کے ساتھ کفر کی طرف لوٹ گیا ‘ وہ اللہ کے غضب اور بہت بڑے عذاب کا مستحق ہوگیا۔