۞ قل تعالوا اتل ما حرم ربكم عليكم الا تشركوا به شييا وبالوالدين احسانا ولا تقتلوا اولادكم من املاق نحن نرزقكم واياهم ولا تقربوا الفواحش ما ظهر منها وما بطن ولا تقتلوا النفس التي حرم الله الا بالحق ذالكم وصاكم به لعلكم تعقلون ١٥١
۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَـٰدَكُم مِّنْ إِمْلَـٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ١٥١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
٣

خدائی پابندی کے نام پر لوگ طرح طرح کی رسمی اور ظاہری پابندیاں بنا لیتے ہیں اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انھوں نے خدائی پابندیوں کا حق ادا کردیا۔ مگر خدا انسان سے جن پابندیوں کا اہتمام چاہتا ہے وہ حقیقی پابندیاں ہیں، نہ کہ کسی قسم کے رسمی مظاہر۔

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کو اپنا خدا بنائے۔ اس کے سوا کسی کی بڑائی کا غلبہ اس کے ذہن پر نہ ہو۔ اس کے سوا کسی کو وہ قابل بھروسہ نہ سمجھتا ہو۔اس کے سوا کسی سے وہ امید قائم نہ کرے اس کے سوا کسی سے وہ نہ ڈرے اور نہ اس کے سوا کسی کی شدید محبت میں مبتلا ہو۔

والدین اکثر حالات میں کمزور او رمحتاج ہوتے ہیں اور اولاد طاقت ور۔ ان سے حسن سلوک کا محرک مفاد نہیںہوتا بلکہ صرف حق شناسی ہوتا ہے۔ اس طرح والدین کے حقوق ادا کرنے کا معاملہ آدمی کے ليے اس بات کا سب سے پہلا امتحان بن جاتا ہے کہ اس نے خدا کے دین کو قول کی سطح پر اختیار کیا ہے یا عمل کی سطح پر۔ اگر وہ والدین کی کمزوری کے بجائے ان کے حق کو اہمیت دے، اگر اپنے دوستوں اور اپنی بیوی بچوں کی محبت اس کو والدین سے دور نہ کرے تو گویا اس نے اس بات کا پہلا ثبوت دے دیا کہ اس کا اخلاق اصول پسندی اور حق شناسی کے تابع ہوگا، نہ کہ مفاد اور مصلحت کے تابع۔

انسان اپنے حرص اور ظلم کی وجہ سے خدا کے پیدا كيے ہوئے رزق کو تمام بندوں تک منصفانہ طورپر پہنچنے نہیں دیتا۔ اور جب اس کی وجہ سے قلت کے مصنوعی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ کھانے والوں کو قتل کردو یا پیداہونے والوںكو پیدا نہ ہونے دو۔ اس قسم کی باتیں خدا کے نظام رزق پر بہتان کے ہم معنیٰ ہیں۔

بہت سی برائیاں ایسی ہیں جو اپنی ہیئت میںاتنی فحش ہوتی ہیں کہ ان کی برائی کو جاننے کے ليے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسانی فطرت اور اس کا ضمیر ہی یہ بتانے کے ليے کافی ہے کہ یہ کام انسان کے کرنے کے قابل نهيں۔ ايسي حالت ميں جو شخص فحاشي يا بے حيائي كے كام ميں مبتلا هو وه گويا ثابت كررها هے كه وه اس ابتدائي درجهٔ انسانیت سے بھی محروم ہے جہاں سے کسی انسان کے انسان ہونے کا آغاز ہوتا ہے۔

ہر انسان کی جان محترم ہے۔ کسی انسان کو ہلاک کرنا کسی کے ليے جائز نہیں جب تک خالق کے قانون کے مطابق وہ کوئی ایسا جرم نہ کرے جس میں اس کی جان لینا مخصوص شرائط کے ساتھ مباح ہوگیاہو — یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ عقل سے کام لینے والا ان کی صداقت کو جاننے سے محروم نہیں رہ سکتا۔