۞ عسى الله ان يجعل بينكم وبين الذين عاديتم منهم مودة والله قدير والله غفور رحيم ٧
۞ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةًۭ ۚ وَٱللَّهُ قَدِيرٌۭ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
٣

آیت 7{ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْہُمْ مَّوَدَّۃً } ”بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے ‘ دوستی پیدا کر دے۔“ ظاہر ہے اگر وہ بھی ایمان لے آئیں گے تو وہ تمہارے بھائی بن جائیں گے ‘ جیسا کہ سورة التوبہ کی آیت 11 میں فرمایا گیا : { فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِط } ”پھر بھی اگر وہ توبہ کرلیں ‘ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں“۔ اور یہ مرحلہ کوئی زیادہ دور بھی نہیں تھا۔ زیرمطالعہ آیات فتح مکہ سے قبل 8 ہجری میں نازل ہوئیں اور اس سے اگلے ہی سال فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں مشرکین عرب کو چار ماہ کا الٹی میٹم دے دیا گیا کہ یا ایمان لے آئو ‘ یا سب قتل کردیے جائو گے۔ اس کے نتیجے میں سب لوگ ایمان لا کر اسلامی بھائی چارے میں شامل ہوگئے۔ آیت زیرمطالعہ میں دوستی اور محبت کے اسی رشتے کی طرف اشارہ ہے جو ان کے درمیان ایک سال بعد بننے والا تھا۔ { وَاللّٰہُ قَدِیْرٌط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اللہ ہر شے پر قادر ہے ‘ اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“