أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:9إلى 11:11
ولين اذقنا الانسان منا رحمة ثم نزعناها منه انه لييوس كفور ٩ ولين اذقناه نعماء بعد ضراء مسته ليقولن ذهب السييات عني انه لفرح فخور ١٠ الا الذين صبروا وعملوا الصالحات اولايك لهم مغفرة واجر كبير ١١
وَلَئِنْ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ ثُمَّ نَزَعْنَـٰهَا مِنْهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٌۭ كَفُورٌۭ ٩ وَلَئِنْ أَذَقْنَـٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٌۭ فَخُورٌ ١٠ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌۭ كَبِيرٌۭ ١١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
٣

موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔

وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔

اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔

صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔