آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس لشکر میں خروج کا حکم اندھیرے کا سوٹا نہ تھا بلکہ اس میں معذوروں کا خیال رکھا گیا تھا۔ کیو کہ اسلام تو ایک معقول اور سہولت کا دین ہے۔ اس میں کسی سے اس کی استطاعت سے زیادہ کا مطالبہ نہیں ہوتا۔ لہذا معذوروں سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔
جو لوگ ضعیف ہیں ، بوڑھے ہیں ، معذور ہیں اور بیٹھے ہیں ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ بیمار جو عارضی طور پر اس مہم میں شریک نہ ہوسکتے تھے ، قابل ملامت نہیں ہیں۔ وہ لوگ بھی معذور تصور ہوں گے جو سواری اور زاد راہ نہیں رکھتے۔ یہ لوگ اگر میدان معرکہ سے دور رہے تو ان کا کیا قصور ہے۔ لیکن ان کے دل اور ضمیر اور ان کے جذبات اللہ اور رسول کے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں نے کسی بات کو چھپا نہیں رکھا ، دھوکہ نہیں کرتے اور مدینہ میں رہ کر وہ حفاظت ، چوکیداری اور دار الاسلام کی دوسری خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو اسلامی ریاست کے لیے مفید اور ضروری ہیں۔ ایسے لوگ معذور ہونے کے ساتھ محسن بھی ہیں ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور نہ وہ قابل ملامت ہوں گے۔