آیت 91 لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَلاَ عَلَی الْمَرْضٰی وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ آخر اتنا طویل سفر کرنے کے لیے ضروری تھا کہ آدمی تندرست و توانا ہو ‘ اس کے پاس سواری کا انتظام ہو ‘ راستے میں کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے لیے سامان مہیا ہو ‘ لیکن اگر کوئی شخص ضعیف ہے ‘ بیمار ہے ‘ یا اس قدر نادار ہے کہ سفر کے اخراجات کے لیے اس کے پاس کچھ بھی نہیں تو اللہ کی نظر میں وہ واقعتا مجبور و معذور ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ان کو اس بات کا کوئی الزام نہیں دیا جاسکتا۔اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ یعنی مندرجہ بالا وجوہات میں سے کسی وجہ سے کوئی شخص واقعی معذور ہے مگر سچا اور پکا مومن ہے ‘ خلوصِ دل سے اللہ اور اس کے رسول کا وفادار ہے ‘ اس کا دین درجۂ احسان تک پہنچا ہوا ہے ‘ تو ایسے صاحب ایمان اور محسن لوگوں پر کوئی ملامت نہیں۔