منافقوں کا بےعمل ، منحرف اور گمراہ طبقہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت انوکھا نہیں رہا ہے۔ اسلام سے قبل بھی انسانی تاریخ میں اس کے نمونے موجود رہے ہیں اور ادوار سابقہ کے منافقین کا انجام بھی ان کے فسق و فجور کے مطابق ایسا ہی رہا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی فطرت میں کجی آجاتی ہے اور وہ صحیح راہ پر نہیں چلتے۔ اس سے قبل جو کافر اور منافق گزرے ہیں وہ حضور کے دور کے منافقین سے زیادہ مادار اور زیادہ افرادی قوت کے مالک تھے۔ لیکن یہ مالی اور افرادی وسائل انہیں نہ بچا سکے۔
قرآن کریم امم سابقہ کے منافقین کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو تم ان لوگوں ہی کے راستے پر تو چل رہے ہو۔ آخر کیوں تمہارا انجام ان سے مختلف ہوگا۔
قوت کا فتنہ بھی خطرناک فتنہ ہوتا ہے۔ مالی قوت اور افرادی قوت سے انسان فتنے میں پڑجاتا ہے۔ جن لوگوں کا رابطہ بڑی قوت سے ہوتا ہے وہ چھوٹی قوتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ صرف قوی تر قوت سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ سمع و اطاعت اس بڑی قوت کی کرتے ہیں اور اس بڑی قوت کی بات کو اونچا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مالی قوت اور افرادی قوت اثر نہیں کرتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال و دولت اور انصآر و اولاد دینے والا تو اللہ ہے جو برتر قوت ہے۔ لہذا اگر ان کے پاس نعمت آجائے تو وہ شکر ادا کرنے میں بہت حریص ہوتے ہیں اور وہ مالی قوت اور افرادی قوت کو بھی اللہ کی اطاعت میں کھپا دیتے ہیں اور جن لوگوں کی فطرت میں انحراف ہوتا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس قوت کا سرچشمہ کیا ہے۔ تو وہ تکبر ، غرور اور سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو کھانے پینے تک محدود کردیتے ہیں جس طرح مویشی کھاتے تپیتے ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : " سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں "
حبط اعمال کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال بنیاد ہی سے باطل ہوگئے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے پودے کے مانند تھے جس کی جڑیں نہ تھیں۔ اس قسم کا پودا نہ سرسبز ہوا ہے اور منہ پھلتا پوھلتا ہے۔ اور ایسا پودا لگانے والے آخر کار گھاٹے میں ہوتے ہیں اور ان کا گھاٹا ہمہ گیر ہوتا ہے۔