اس موقعہ پر جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ لشکر کشی کی قدرت رکھتے تھے۔ ان کے پاس وسائل سفر موجود تھے ، سازوسامان بھی موجود تھا۔
وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا : " اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے " ایسے لوگوں کے سرخیل عبداللہ ابن ابی ابن سلول تھے ، جد ابن قیس بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ یہ اپنے قبائل کے معتبرین میں سے تھے اور با اثر اور مالدار تھے۔
وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ : " لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا۔ اس لیے اس نے انہیں سست کردیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ "
اللہ کو ان لوگوں کے مزاج اور ان کے نفاق کا علم تھا اور ان لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض و عداوت جس طرح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے۔ اس لیے اللہ نے انہیں اس موقع پر بٹھا دیا اور ان کی ہمت ہی ختم کردی۔ یہ لوگ گھروں اور عورتوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ بچوں اور ناداروں کے ساتھ وہ پیچھے رہ گئے جو حقیقتاً اس لشکر میں جانے کی طاقت و وسائل نہ رکھتے تھے۔ لہذا گری ہوئی ہمتوں ور کمزور یقین رکھنے والوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ بیٹھے رہیں اور اس اعزاز سے محروم رہیں۔ اور اس میں دعوت اسلامی کی بھلائی تھی۔