You are reading a tafsir for the group of verses 9:113 to 9:116
ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولي قربى من بعد ما تبين لهم انهم اصحاب الجحيم ١١٣ وما كان استغفار ابراهيم لابيه الا عن موعدة وعدها اياه فلما تبين له انه عدو لله تبرا منه ان ابراهيم لاواه حليم ١١٤ وما كان الله ليضل قوما بعد اذ هداهم حتى يبين لهم ما يتقون ان الله بكل شيء عليم ١١٥ ان الله له ملك السماوات والارض يحيي ويميت وما لكم من دون الله من ولي ولا نصير ١١٦
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَحِيمِ ١١٣ وَمَا كَانَ ٱسْتِغْفَارُ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍۢ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوٌّۭ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَأَوَّٰهٌ حَلِيمٌۭ ١١٤ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ ١١٥ إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ ١١٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ایک شخص کافر ومشرک ہو اور اس کے سامنے اتمام حجت کی حد تک دین کی دعوت آجائے، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو خداکے قانون کے مطابق وہ جہنمی ہوجاتاہے۔ ایسے شخص کے ليے اس کے بعد نجات کی دعا کرنا گویا ایمان کو بے وقعت بنانا اور خدائی انصاف کی تردید کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی دعا سے منع کردیاگیا۔

تاہم آیت میں مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَکا لفظ بتاتا ہے کہ اس حکم کا تعلق زمانہ رسالت کے مشرکین سے ہے جن کے بارے میں وحی کے ذریعہ بتا دیاگیا تھا کہ وہ جہنمی ہیں ۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ منافقین کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا نہ کریں (التوبہ، 9:84 ) یہ بات مدینہ کے منافقوں کو بہت ناگوار ہوئی۔ انھوں نے اس کو لے کر آپ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ وہ کہتے کہ یہ نبی تو نبی رحمت ہیں اور اپنے کو ابراہیم کا پیرو بتاتے ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں اور اپنے رشتہ داروں کے ليے استغفار سے روکتے ہیں ۔ حالاں کہ ابراہیم کا حال یہ تھا کہ اپنے مشرک باپ کے لیے بھی انھوں نے مغفرت کی دعا کی۔

جوا ب دیا گیا کہ ابراہیم بڑے درد مند اور انسانیت کے غم میں گھلنے والے تھے۔ اپنے اس جذبہ کے تحت انھوں نے عہد کرلیاکہ وہ اپنے مشرک باپ کے حق میں خدا سے دعا کریں گے۔ مگر جب وحی نے تنبیہ کی تو اس کے بعد وہ فوراً اس سے باز آگئے۔

اللہ نے ہر آدمی کی اند ربرائی کی فطری تمیز رکھی ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک ایسا پیغام آتاہے جو اس کو برائی سے روکتا ہے تو اس کا وجود اندر سے اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے دل کے اندر ایک خاموش کھٹک پیداہوتی ہے۔ آدمی اگر اس کھٹک کو نظر انداز کردے، وہ فطرت کی گواہی کے باوجود بچنے والی چیز سے نہ بچے تو اس کی فطری حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو گم راہ کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔ ’’ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرنا‘‘ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کا خطرہ مسلمانوں کے ليے بھی اسی طرح ہے جس طرح غیر مسلموں کے ليے۔