آیت 103 خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا روایت میں آتا ہے کہ یہ اصحاب رض اپنے اموال کے ساتھ خود حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر ہم اللہ کی راہ میں یہ اموال پیش کرتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ مخلص مؤمن تھے ‘ صرف سستی اور کمزوری کے باعث کوتاہی ہوئی تھی ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کمال مہربانی سے آپ ﷺ کو یہ صدقات قبول کرنے کی اجازت فرمائی۔ جبکہ منافقین کے صدقات قبول کرنے سے آپ ﷺ کو منع فرما دیا گیا تھا۔وَصَلِّ عَلَیْہِمْط اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ ط آپ ﷺ کی دعا ان کے لیے باعث اطمینان ہوگی اور انہیں تسلی ہوجائے گی کہ ان کی خطا معاف ہوگئی ہے اور ان کی توبہ قبول کی جا چکی ہے۔