روایات میں آتاہے کہ جب بدر کا معرکہ گرم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے يَا رَبُّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا (دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد3، صفحہ
یہ اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ اہلِ ایمان کی مدد کرتا ہے۔ ان کے دشمن خواہ کتنی ہی سازش کریں وہ ان کی سازشوں کو اپنی تدبیروں سے بے اثر کردیتا ہے۔ وہ ان کو مغلوب کرکے اہل ایمان کو ان کے اوپر غالب کردیتاہے۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اہلِ ایمان اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ میں اس طرح ملا دیں کہ خدا کی منشا اور اہلِ ایمان کی منشا دونوں ایک ہو جائے۔ جب بندہ اس طرح اپنے آپ کو خدا کے مطابق کرلیتاہے تو جو کچھ خدا کا ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے کیوں کہ جو کچھ اس کا ہے وہ خدا کو دے چکا ہوتاہے۔
بد رکے ليے روانگی سے پہلے مکہ کے سردار بیت اللہ گئے اور کعبہ کے پردہ کو پکڑ کر یہ دعا کی خدایا، اس کی مدد کر جو دونوں لشکروں میں سب سے اعلیٰ ہو، جو دونوں گروہوں میں سب سے معزز ہو، جو دونوں قبیلوں میں سب سے بہتر ہو (اللَّهُمَّ انْصُرْ أَعْلَى الْجُنْدَيْنِ، وَأَكْرَمَ الْفِئَتَيْنِ، وَخَيْرَ الْقَبِيلَتَيْنِ )تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
’’دونوں میں جو سب سے اعلیٰ اور سب سے اشرف ہو اس کو فتح دے‘‘— یہ بظاہر دعا تھی مگر حقیقۃً وہ اپنے حق میں پُرفخر اعتماد کا اظہار تھا۔ اس کے پیچھے ان کی یہ نفسیات کام کررہی تھی کہ ہم کعبہ کے پاسبان ہیں۔ ہم ابراہیم واسماعیل سے نسبت رکھنے والے ہیں۔ جب ہمارے ساتھ اتنی بڑی فضیلتیں جمع ہیں توجیت بہر حال ہماری ہونی چاہیے۔ مگر خدا کے یہاں ذاتی عمل کی قیمت ہے، نہ کہ خارجی انتسابات کی۔ خارجی انتساب خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو آدمی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔