فلم تقتلوهم ولاكن الله قتلهم وما رميت اذ رميت ولاكن الله رمى وليبلي المومنين منه بلاء حسنا ان الله سميع عليم ١٧
فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ ١٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا پورا حق وصول کرے۔ مگر اعلی انسانی کردار یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو بھی ان کا پورا پورا حق ادا کرے۔ وہ دوسروں کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کر رہا ہے، جو لوگ خود پورا لیں اور دوسروں کو کم دیں وہ آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہاں وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔

جو اپنے لیے پورا وصول کر رہا ہے وہ گویا اس بات کو جانتا ہے کہ آدمی کو اس کا پورا حق ملنا چاہیے۔ ایسی حالت میں جب وہ دوسروں کو دینے کے وقت انہیں کم دیتا ہے تو وہ دوسروں کے حقوق کے بارے میںاپنی حساسیت کو گھٹاتا ہے ۔ جو شخص بار بار اس طرح کا عمل کرے اس پر بالآخر وہ وقت آئے گا جب کہ دوسروں کے حقوق کے بارے میں اس کی حساسیت بالکل ختم ہوجائے۔ اس کے دل کے اوپر پوری طرح اس کے برے عمل کا زنگ لگ جائے۔