آیت 16 وَمَنْ یُّوَلِّہِمْ یَوْمَءِذٍ دُبُرَہٗٓ یعنی اگر کوئی مسلمان میدان جنگ سے جان بچانے کے لیے بھاگے گا۔اِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ جیسے دو آدمی دوبدو مقابلہ کر رہے ہوں اور لڑتے لڑتے کوئی دائیں ‘ بائیں یا پیچھے کو ہٹے ‘ بہتر داؤ کے لیے پینترا بدلے تو یہ بھاگنا نہیں ہے ‘ بلکہ یہ تو ایک تدبیراتی حرکت tactical move شمار ہوگی۔ اسی طرح جنگی حکمت عملی کے تحت کمانڈر کے حکم سے کوئی دستہ کسی جگہ سے پیچھے ہٹ جائے اور کوئی دوسرا دستہ اس کی جگہ لے لے تو یہ بھی پسپائی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِءَۃٍ یعنی لڑائی کے دوران اپنے لشکر کے کسی دوسرے حصے سے ملنے کے لیے منظم طریقے سے پیچھے ہٹنا orderly retreat بھی پیٹھ پھیرنے کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ ان دو استثنائی صورتوں کے علاوہ اگر کسی نے بزدلی دکھائی اور بھگڈر کے اندر جان بچا کر بھاگا :فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰٹہُ جَہَنَّمُط وَبِءْسَ الْمَصِیْرُ ۔اب اگلی آیات میں یہ بات واضح تر انداز میں سامنے آرہی ہے کہ غزوۂ بدر دنیوی قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ‘ بلکہ اللہ کی خاص مشیت کے تحت وقوع پذیر ہوا تھا۔