والشفع والوتر (3:89) ” اور جفت اور طاق کی قسم “۔ اس مانوس اور محبوب فضائے صبح گا ہی میں اور قابل قدر دس راتوں میں شفع ووتر روح صلوٰة ہیں۔ حدیث شریف کے الفاظ ہیں : ” نماز میں شفع بھی ہے اور وتر (ترمذی) ۔ ان آیات میں جو فضا پائی جاتی ہے اس میں یہی مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس چھاجانے والی کائنات کی روح کے ساتھ عبادت گزار روح کا اتصال ہی موزوں مفہوم ہے ، جس طرح ایک عبادت گزار روح اللہ کی پسندیدہ دس راتوں میں روح کے ساتھ وصال پاتی ہے اور پھر یہ راتیں اور یہ روشن نمود صبح سب باہم ملتے ہیں۔