You are reading a tafsir for the group of verses 89:24 to 89:25
يقول يا ليتني قدمت لحياتي ٢٤ فيوميذ لا يعذب عذابه احد ٢٥
يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى ٢٤ فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌۭ ٢٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 24{ یَـقُوْلُ یٰــلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ۔ } ”وہ کہے گا : اے کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا !“ یہاں لفظ حَیَاتِیْ میری زندگی خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ یعنی اس وقت انسان کو معلوم ہوجائے گا کہ میری اصل زندگی تو یہ ہے جواَب شروع ہوئی ہے۔ میں خواہ مخواہ دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھتا رہا جو اس اصل زندگی کی تمہید تھی۔ دراصل انسانی زندگی عالم ارواح سے شروع ہوتی ہے اور دنیا سے ہوتی ہوئی ابد الاباد تک جاتی ہے۔ دنیا کے ماہ و سال اور شب و روز کی گنتی سے زندگی کے اس طویل سفر کا حساب ممکن نہیں۔ علامہ اقبال نے اس فلسفے کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی !چنانچہ انسان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس کی دنیوی زندگی اس کی جاودانی زندگی کے تسلسل کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے امتحان کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اس وقفہ امتحان کے اختتام کی علامت کے طور پر اس نے موت کو تخلیق فرمایا ہے ‘ تاکہ ہر انسان کے اعمال کی جانچ کی جاسکے : { الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط } الملک : 2 ”اس نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔“