You are reading a tafsir for the group of verses 85:7 to 85:9
وهم على ما يفعلون بالمومنين شهود ٧ وما نقموا منهم الا ان يومنوا بالله العزيز الحميد ٨ الذي له ملك السماوات والارض والله على كل شيء شهيد ٩
وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌۭ ٧ وَمَا نَقَمُوا۟ مِنْهُمْ إِلَّآ أَن يُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ ٨ ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ ٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور حاضروناظر ہے۔ اور وہ اس مخصوص واقعہ کو بھی دیکھ رہا ہے جو اہل ایمان کو پیش آیا کہ ان کو گڑھے میں پھینکا گیا۔ اس ایمان مفصل کے بیان سے اور اللہ کی شہادت سے ہر اس مومن کو تسلی ہوجاتی ہے جسے محض ایمان کی وجہ سے سرکشی اور جبار اذیت دیتے ہیں ۔ اللہ گواہ ہے اور شہادت کے لئے وہ کافی ہے۔

غرض ان مختصر آیات میں یہ قصہ ختم کردیا جاتا ہے ، لیکن ان لوگوں کا یہ فعل اور تشدد اس قدر ظالمانہ اور سنگدلانہ ہے کہ ہر قاری کا دل ان لوگوں کے خلاف نفرت اور کراہت سے بھرجاتا ہے اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ واقعہ کے اثرات ونتائج اللہ کے ہاں کیا ہوں گے۔ اللہ کے ہاں اس واقعہ کی اہمیت کیا ہوگی اور یہ ظالم اللہ کے ہاں کس غضب کے مستحق بن گئے ہیں۔ واقعہ تو اختصار کے ساتھ بیان ہوگیا لیکن انسانی سوچ میں یہ واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اللہ کے ہاں اس کے اثرات اور اس کا حساب و کتاب باقی موجود ہے۔

یہ قصہ ختم ہوگیا ، لیکن انسانی قلب اس عظیم کارنامے سے مرعوب ہوجاتا ہے کہ ایمان کٹھن آزمائش پر فتح پالیتا ہے ، نظر یہ زندگی پر ترجیح پاتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو زمین کی تمام دلچسپیوں اور جسم کی تمام خواہشات کو نظر انداز کردیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے ایک راہ یہ بھی تھی کہ ایمان کو چھوڑ کر زندگی کا سامان لے کر نکل جائیں ، لیکن ان کا یہ سودا کس قدر خسارے کا سودا ہوتا ، اس طرح پوری انسانیت گویا بار جاتی۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں کو قتل کردیتے۔ اب لوگوں کو نظریہ سے خالی زندگی حقیر نظر نہ آتی ، غلامی پر وہ راضی ہوجاتے اور لوگ اس قدر ذلیل ہوجاتے کہ جسمانی غلامی کے بعد وہ روحانی غلامی بھی قبول کرلیتے۔ لیکن یہ عظیم اقدار تھیں جن کو انہوں نے اس وقت بھی خرید اور نفع بخش سودا سمجھا جب وہ زمین پر زندہ تھے ، اور ان کو انہوں نے اس وقت بھی ترجیح دی جب ان کے جسم جل رہے تھے۔ یوں یہ روحانی قدریں فتح مند ہوتی ہیں اور یہ قدریں آگ کی بھٹی سے پاک ہوکر نکلتی ہیں۔ اس کے بعد رب کے ہاں ان کے لئے بھی اجر ہے اور ان کے دشمنوں کا بھی حساب ہوگا ، چناچہ کہا جاتا ہے۔