You are reading a tafsir for the group of verses 85:14 to 85:15
وهو الغفور الودود ١٤ ذو العرش المجيد ١٥
وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلْوَدُودُ ١٤ ذُو ٱلْعَرْشِ ٱلْمَجِيدُ ١٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہاں مغفرت کا تعلق اور ربط آیت ماقبل سے ہے۔

ثم لم یتوبوا (10:85) ” پھر اس سے تائب نہ ہوئے “۔ یہ اللہ کی بےپایاں رحمت اور اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اور ایک کھلا دروازہ ہے اور یہ ہر واپس آنے والے اور ہر توبہ تائب ہونے والے کے لئے کھلا ہے۔ اگرچہ اس کا گناہ اور اس کی معصیت نہایت سخت ہو۔ لفظ ودود (محبت کرنے والا) کا تعلق اہل ایمان سے ہے جنہوں نے ہر چیز پر اپنے رب کو ترجیح دی۔ یہ وہ مقام محبت اور وہ مقام انس ہے جہاں تک اللہ کے خاص بندے ہی پہنچ سکتے ہیں۔ اس مقام تک اللہ صرف ان بندوں کو ترقی دیتا ہے ، جو اللہ کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں کہ ہر چیز پر ، محبوب سے محبوب چیز پر اللہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان بندوں کی صفت سے انسانی قلم قاصر ہے ، الایہ کہ کسی قلم کو اللہ طاقت دے۔ یہ مقام بلند جس تک ان مخصوص بندوں کو عروج نصیب ہوتا ہے ، یہ اللہ کی محبت اور سچی دوستی کا مقام ہے۔ رب اور بندے کے درمیان دوستی ! اور اللہ کی جانب سے اپنے محبوبوں اور مقربین کے ساتھ محبت کا مقام ! لہٰذا اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس زندگی کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو بہر حال ختم ہونے والی تھی ، اور اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس عذاب حریق کی بھی کوئی حیثیت نہیں جو بہرحال ایک محدود وقت کے لئے تھا ، یہ قربانیاں تو اللہ کی جانب سے محبت اور دوستی کے ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہیں۔

اس زمین میں جو لوگ کسی ایک شخص کے غلام ہوتے ہیں۔ اگر یہ مجازی مالک ان کی تعریف میں ایک کلمہ بھی کہہ دے اور اگر وہ دیکھ لیں کہ ان کے کسی فعل سے مال مجازی کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے ہیں ، یہ غلام بہرحال غلام ہے اور وہ مالک مجازی بھی اللہ کا بندہ اور غلام ہے۔ لیکن اللہ کے خاص بندے جن کے ساتھ اللہ محبت کرتا ہے ، جن کے ساتھ محبت کرنے والا رب جلیل ہوتا ہے اور وہ عرش کا مالک ہوتا ہے ، جو بلند اور برتر ہے ، اور کریم ہوتا ہے تو ان بندے کی جان اگر جاتی ہے تو کچھ بھی نہیں ، اگر ان پر تشدد ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں۔ دنیا کی پوری زندگی میں اگر تشدد ہوتا رہے تو بھی اس لمحہ محبت پر وہ قربان ہے جو رب ودود کی طرف سے محبت کا لمحہ ہے جو عرش کا مالک ہے اور عظیم ہے۔

ذوالعرش المجید (15:85) ” عرش کا مالک ہے ، بزرگ اور برتر ہے “۔