You are reading a tafsir for the group of verses 80:1 to 80:2
عبس وتولى ١ ان جاءه الاعمى ٢
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ١ أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ ٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہ ہدایات جو اس متعین واقعہ کے حوالے سے دی گئی ہیں بہت ہی اہم ہدایات ہیں ، بادی النظر میں انسان ان کو پڑھ کر جو کچھ سمجھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جسے اس کرہ ارض پر ایک زندہ اور عملی حقیقت بنایا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ انسانی زندگی کو اس معجزے نے یکسر بدل دیا۔ اور یہ اسلام کا پہلا اور نمایاں معجزہ تھا۔ یہ ہدایات اگرچہ بظاہر ایک معمولی انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے آئی ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ قرآن کریم کا ایک ربانی انداز ہے کہ وہ ایک لامحدود اور نہایت ہی گہری اور تمام حقیقت ایک محدود اور ظاہری واقعہ کے ضمن میں بیان کردیتا ہے۔

اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو جو حقیقت یہاں ان ہدایات میں ذہن نشین کرائی جارہی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے اندر جو عملی نتائج پیدا ہورہے ہیں وہ تو عین اسلام ہے۔ یہی اسلام ہے جو ہر آسمانی رسالت نے پیدا کیا ، اور اس کا پودا زمین کے اندر لگایا۔

یہ گہری حقیقت جو ان ہدایات کے ضمن میں بیان کی گئی ہے۔ محض یہ نہیں ہے کہ معاشرے کے افراد کے ساتھ برتاﺅ کس طرح ہو ، غرباء کے ساتھ کیا ہو اور امراء کے ساتھ کس طرح ہو ، جیسا کہ بظاہر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت اس سے ذرا گہری ہے ، بہت بڑی ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملات کے وزن اور قدر کا اسلامی پیمانہ کیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی قدریں اور پیمانے کہاں سے لینے ہیں۔

ان ہدایات کے ذریعہ جس حقیقت کو استقلال بخشا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنی اقدار صرف آسمانی حوالوں سے اخذ کرنی ہیں۔ ان کے پیمانے آسمان سے متعین ہوکر آئیں ، زمین اور اہل زمین کے ہاں کیا کچھ رائج ہے۔ یہ اسلامی نظروں میں کچھ نہیں ہے ، اہل دنیا کی اقدار کیا ہیں۔ یہ اسلامی نگاہ میں غیر متعلق بات ہے۔

اب معلوم ہوگا کہ یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے اور اس کرہ ارض پر اس معیار کو قائم کرنا مشکل کام ہے۔ زمین کے اوپر زمین کے لوگ وہ قدریں اور پیمانے آسمان سے اخذ کریں جن کے اوپر زمین اور اہل زمین کی کوئی چھاپ نہ ہو ، اور زمین کے رواج اور حوالوں سے وہ خالی ہوں یہ فی الحقیقت ایک عظیم امر ہے۔

ان ہدایات کی عظمت اور ان کی عملی مشکلات کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہم انسان کی پیچیدہ عملی زندگی کا گہرا مطالعہ کریں اور یہ اندازہ کریں کہ انسانی نفس ، انسانی شعور پر ان کا دباﺅ کیا ہوتا ہے۔ انسان کے لئے واقعی حالات ، زندگی کے دباﺅ اور پریشر ، لوگوں کے خاندانی اور معاشی روابط کے بندھنوں سے نکلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ انسان کی موروثی قدریں ، تاریخی روایات اور تمام دوسری قدریں جو اسے زمین کے ساتھ مضبوطی سے باندھ رہی ہوتی ہیں اور جن کا دباﺅ نفس انسانی پر بہت سخت ہوتا ہے۔

اور یہ معاملہ اس وقت بھی عظیم اور مشکل نظر آتا ہے ، جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ اس مسئلے پر سرور کونین کو بھی اللہ کی طرف سے ہدایات کی ضرورت پیش آئی بلکہ یہ ہدایات سخت عتاب کی شکل میں دی گئیں اور آپ کے طرز عمل پر بارگاہ رب العزت کی طرف سے تعجب کا اظہار کیا گیا۔

کسی معاملے کی عظمت اور اس کے مشکل الحصول ہونے کے لئے صرف یہ کہنا ہی کافی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئی اور آپ کو ہدایت دی گئی اور تنبیہہ کی گئی کہ آپ کو یہ اعلیٰ معیار قائم کرنا ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ کی عظمت ، آپ کی بلندی اور رفعت اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آپ کو بھی اس معاملے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تو یہ معاملہ فی الواقع بہت عظیم اور یہ معیار مشکل الحصول ہے۔ یہ ہے اس معاملے کی اہمیت اور حقیقت ، جسے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ایک واقعہ اور حقیقت نفس الامری کے طور پر اس انفرادی واقعہ کی صورت میں ، ایک مثال ، معیار اور ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا تاکہ لوگ اس میزان اور معیار کے مطابق اپنا طرز عمل درست کریں۔ اور نبی ﷺ کے اسوہ ، نمونہ اور عملی زندگی سے اپنے لئے میزان اور معیار اخذ کریں۔ یوں یہ واقعہ اور یہ ہدف ایک عظیم ہدف بن جاتا ہے۔ قرآن وسنت دراصل وہ پیمانہ ہے جسے اللہ نے رسولوں کو عطا کیا ، ان پر نازل کیا تاکہ لوگ ان کے مطابق اپنے اعمال اور طرز عمل کو درست کریں ، اس سلسلے میں یہ میزان کیا ہے ؟ یہ ہے۔

ان اکرمکم ................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ بس یہی وہ وزن ہے جس کے مطابق کسی کا پلڑا بھاری ہوگا اور کسی کا ہلکا ہوگا۔ اور یہ خالص آسمانی قدروقیمت ہے۔ آسمانی پیمانہ ہے اور اس کا زمین کے حالات وروایات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن لوگ تو اس زمین پر رہتے ہیں اور یہاں ان کے درمیان قسم قسم کے روابط ہیں۔ ہر رباطے کا ایک وزن ، ایک دباﺅ اور ایک کشش ہے۔ ان کی اقدار مختلف ہوتی ہیں۔ نسب ، قوت ، مال اور ان تینوں کی بنیاد پر قائم ہونے والے روابط ومفادات ، اقتصادی اور غیر اقتصادی روابط جن میں بعض لوگوں کے حالات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ نسب ، مال اور قوت کے لحاظ سے اس زمین پر بعض لوگوں کا وزن زیادہ اور بعض کا کم ہوتا ہے۔

جب اسلام آتا ہے ، تو اس کا اعلان یہ ہوتا ہے۔

ان اکرمکم ........................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ تو وہ ان تمام روابط ، اقدار اور تعلقات سے صرف نظر کرلیتا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں کا ان کی عقلیت اور شعور پر دباﺅ ہوتا ہے۔ ان میں جاذبیت ہوتی ہے۔ انسانوں کے فہم و شعور میں اس کی گہری جڑیں ہوتی ہیں۔ اسلام ان تمام چیزوں کو بدل کر انسانوں کو آسمانی قدریں دیتا ہے اور یہ آسمانی قدریں اور پیمانے صرف ایک معیار کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو متقی ہے وہ مکرم ہے اور بس۔

ایک واقعہ ، جزئی اور متعین واقعہ پیش آتا ہے اور اس کے ضمن میں یہ اصول اور یہ بنیادی قدر متعین ہوجاتی ہے کہ یہ آسمان سے نازل شدہ پیمانہ اور یہ قدر و قیمت آسمانوں سے مقرر ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ لوگ ہر اس چیز کو ترک کردیں جو لوگوں کے ہاں عرف اور متعارف ہو ، جو زمینی تصورات ، زمینی اقدار اور عرف پر مبنی ہو ، اور صرف ان قدروں اور پیمانوں کو اپنائیں جو آسمان سے نازل ہوں۔

ایک فقیر اور اندھا آتا ہے۔ نام عبداللہ ابن ام مکتوم ہے۔ یہ رسول اللہ کے ہاں آتا ہے تو آپ قریش کے سرداروں سے محوگفتگو ہیں۔ ان کو دعوت دین ہی دی جارہی ہے۔ عتبہ ، شیبہ ، یہ دونوں سردار ربیعہ کے مشہور بیٹے ہیں۔ ابوجہل (عمر ابن ہشام) امیہ ابن خلف ، ولید ابن مغیرہ اور عباس ابن عبدالمطلب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ حضور کو یہ امید ہے کہ ان لوگوں کا اسلام اس وقت تحریک کی مشہلات میں کمی کردے گا۔ کارکنوں پر مظالم ہورہے تھے اور یہ چند افراد اپنے مالی ، جانی اور سیاسی حیثیت کے تمام وسائل کو اسلام کی راہ روکنے کے کام میں جھونک رہے تھے۔ اور لوگوں کو اسلام کی راہ سے روک رہے تھے۔ اور وہ اسلام کے خلاف ہر سازش کررہے تھے کہ اسے مکہ کے اندر ہی منجمد کرکے رکھ دیں جبکہ دوسری اقوام مکہ سے باہر غیر جانب دار کھڑی تھیں اور باہر کی اقوام اس دعوت کو اس لئے قبول نہیں کررہی تھی کہ خود اہل مکہ اس کی راہ روکنے کے لئے کھڑے تھے۔ سخت مخالفت کررہے تھے ، اور اس وقت کے قبائل نظام میں اگر کوئی قبیلہ بھی کسی سردار کی بات کو مان کر نہیں دیتا تو اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔

یہ فقیر اندھا شخص حضور ﷺ کے پاس آتا ہے اور حضور اکرم ﷺ ان اکابر قریش کے ساتھ مصروف ہیں۔ اپنے کسی ذاتی معاملے میں نہیں ، کسی ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ دعوت اسلام کے کام اور مفاد میں مصروف گفتگو ہیں۔ اگر یہ لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو مکہ میں دعوت اسلامی کے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور اس کی راہ سے تمام نوکدار کانٹے چنے جاتے ہیں اور اسلام مکہ کے اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ کیونکہ ان اکابر کے اسلام لانے کے بعداسلام تیزی سے پھیل جاتا۔

یہ صاحب حضور اکرم ﷺ کے پاس اس حال میں آتے ہیں اور کہتے ہیں حضور مجھے اس علم میں سے کچھ پڑھائیے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ وہ بار بار اس بات کی تکرار کرتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ حضور مصروف ہیں تو حضور اکرم ﷺ ان کے ان فعل اور ان کی اس بات کو پسند نہیں کرتے اور آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور یہ شخص ان آثار کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ آپ ترش روئی اختیار کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ یہ شخص آپ کو ایک نہایت اہم معاملے سے روک رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس لئے اہم ہے کہ اگر یہ کام ہوجاتا تو دعوت اسلامی کو بہت فائدہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ کام آپ دین اسلام کے فائدے اور مدد کے لئے کررہے ہیں ، خالص دینی فائدے کے لئے۔ اسلام کی مصلحت کی خاطر اور اسلام کے پھیلانے کی چاہت کے جذبے سے۔

لیکن آسمانوں سے مداخلت ہوتی ہے۔ سا لئے مداخلت ہوتی ہے کہ اس موضوع پر فیصلہ کن بات کردی جائے تاکہ دعوت اسلامی کے طریق کار میں کچھ نشانات راہ رکھ دیئے جائیں اور وہ ترازو قائم کردیا جائے جس سر اسلامی نقطہ نظر سے اقدار کو تولا جائے گا۔ اور اس کے مقابلے میں تمام حالات اور تمام مقاصد ترک کردیئے جائیں گے یہاں تک کہ خود اللہ کے دین کی مصلحت کو بھی نظرانداز کردیا جائے گا۔ اگر چہ انسان اس معیار کے خلاف کسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ بلکہ اگرچہ سید البشر ﷺ کسی ایسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔

چناچہ عالم بالا سے نبی کریم ﷺ کے لئے عتاب آتا ہے اور نبی کریم تو خلق عظیم کے مالک ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں لیکن یہ عتاب نہایت ہی شدید اسلوب میں آتا ہے۔ پورے قرآن میں اس قسم کے سخت عتاب کی یہ واحد مثال ہے جس میں لفظ کلا استعمال ہوا ہے جو سختی سے تردید کے لئے آتا ہے اور جھڑکی کے موقعہ پر استعمال ہوتا ہے اور یہ اس لئے کہ یہ میزان وہ ہے جس کے اوپر پورا دین قائم ہے۔

جس اسلوب اور انداز میں یہ عتاب فرمایا گیا ہے وہ ایک منفرد انداز ہے۔ انسانی اسلیب اس کی نقل یا ترجمانی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انسانی تحریر کی زبان کی کچھ حدود ہیں اور کچھ طریقے ہیں۔ انسانی اسلوب تحریر میں ایسے گرم اور سخت اشارات نہیں سموئے جاسکتے جو زندہ وتابندہ ہوں۔ یہ قرآن کریم کا اعجازی انداز گفتگو ہے جو اس قسم کے اشارے چند مختصر الفاظ میں کردے اور عتاب کی ایک جھلک سی دکھادے۔ ایسے انداز میں کہ گویا وہ نہایت ہی تیز تاثرات ہیں ، زندہ صورت میں ہیں ، مخصوص اثر اور انداز رکھتے ہیں۔

عبس .................... الاعمی (2:80) ” ترش رو ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا “۔ یہ گفتگو اس انداز کی ہے کہ گویا ایک غیر موجود اور غائب شخص کے بارے میں بات ہورہی ہے اور وہ مخاطب نہیں ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے ، بات اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مناسب نہ سمجھا کہ اس کا تذکرہ اپنے نبی اور محبوب کو براہ راست خطاب کرکے کرے۔ یہ اس لئے کہ آپ اللہ کو بہت محبوب ہیں اور اللہ آپ کا اکرام فرماتا ہے اور براہ راست خطاب نہیں فرمارہا کہ تم نے ایسا کیا۔ کیونکہ بات بڑی ناپسندیدہ ہے۔ اس کے بعد بات کا انداز بدلتا ہے۔ اصل بات کا تذکرہ کیے بغیر آپ سے خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ اور خطاب بات کو یوں شروع کیا جاتا ہے۔