آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْْفَ آسَی عَلَی قَوْمٍ کَافِرِیْنَ (93)
اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے برادران قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کردیا ۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔ “
اس لئے کہ وہ ایک ملت ہے اور یہ لوگ دوسری ملت ہیں ۔ اہل ایمان ایک قوم ہیں اور وہ دوسری قوم ہیں ۔ رہا سلسلہ نسب اور قوم تو اس دین میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ یہاں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس دین میں واحد رابطہ عقیدہ ونظریہ ہے اور اسی پر اتحاد وانفعال کا مدار ہے۔