You are reading a tafsir for the group of verses 7:80 to 7:84
ولوطا اذ قال لقومه اتاتون الفاحشة ما سبقكم بها من احد من العالمين ٨٠ انكم لتاتون الرجال شهوة من دون النساء بل انتم قوم مسرفون ٨١ وما كان جواب قومه الا ان قالوا اخرجوهم من قريتكم انهم اناس يتطهرون ٨٢ فانجيناه واهله الا امراته كانت من الغابرين ٨٣ وامطرنا عليهم مطرا فانظر كيف كان عاقبة المجرمين ٨٤
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَـٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٨٠ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ ٨١ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌۭ يَتَطَهَّرُونَ ٨٢ فَأَنجَيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ ٨٣ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ ٨٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔

کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔

حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔

حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔