You are reading a tafsir for the group of verses 7:73 to 7:74
والى ثمود اخاهم صالحا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من الاه غيره قد جاءتكم بينة من ربكم هاذه ناقة الله لكم اية فذروها تاكل في ارض الله ولا تمسوها بسوء فياخذكم عذاب اليم ٧٣ واذكروا اذ جعلكم خلفاء من بعد عاد وبواكم في الارض تتخذون من سهولها قصورا وتنحتون الجبال بيوتا فاذكروا الاء الله ولا تعثوا في الارض مفسدين ٧٤
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَـٰلِحًۭا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَـٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٧٣ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ عَادٍۢ وَبَوَّأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًۭا وَتَنْحِتُونَ ٱلْجِبَالَ بُيُوتًۭا ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٧٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل بڑھی اور انھوںنے زراعت اور تعمیر میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجري مکانات کی صورت دے دی۔بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جومادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی، آخرت فراموشی، حدود اللہ سے بے پروائی، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا۔اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کائنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کرکے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلانا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے ليے نااہل قرار دے دیا گیا۔

قوم ثمود کو جانچنے کے ليے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کرديے جاؤ گے۔ خدا کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لیے ایک خوفناک شیر مقرر کردے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے که آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ ’’اونٹنی‘‘ کی سطح پر لیا جاتا ہے، نہ کہ ’’شیر ‘‘ کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے، نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں كي خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جارہا ہے اور کسی کو جہنم کا۔

ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیداکیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھي یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہیے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کررکھا ہے۔