لقد ارسلنا نوحا الى قومه فقال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من الاه غيره اني اخاف عليكم عذاب يوم عظيم ٥٩ قال الملا من قومه انا لنراك في ضلال مبين ٦٠ قال يا قوم ليس بي ضلالة ولاكني رسول من رب العالمين ٦١ ابلغكم رسالات ربي وانصح لكم واعلم من الله ما لا تعلمون ٦٢ اوعجبتم ان جاءكم ذكر من ربكم على رجل منكم لينذركم ولتتقوا ولعلكم ترحمون ٦٣ فكذبوه فانجيناه والذين معه في الفلك واغرقنا الذين كذبوا باياتنا انهم كانوا قوما عمين ٦٤
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ٥٩ قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٦٠ قَالَ يَـٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَـٰلَةٌۭ وَلَـٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٦١ أُبَلِّغُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٦٢ أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٦٣ فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَـٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ ٦٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔
اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔
حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔