You are reading a tafsir for the group of verses 7:52 to 7:53
ولقد جيناهم بكتاب فصلناه على علم هدى ورحمة لقوم يومنون ٥٢ هل ينظرون الا تاويله يوم ياتي تاويله يقول الذين نسوه من قبل قد جاءت رسل ربنا بالحق فهل لنا من شفعاء فيشفعوا لنا او نرد فنعمل غير الذي كنا نعمل قد خسروا انفسهم وضل عنهم ما كانوا يفترون ٥٣
وَلَقَدْ جِئْنَـٰهُم بِكِتَـٰبٍۢ فَصَّلْنَـٰهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ٥٢ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُۥ ۚ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوا۟ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ ٥٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتاہے۔ مگر آدمی چوکنّا نہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگر چہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔

مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑا نہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کررہی تھی۔ قرآن ان کے ليے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔

اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انھیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانك ديكھے گا كه وه بالكل بے سهارا هوچكا هے۔ وه جن مسائل كو اهم سمجھ كر ان ميں الجھا هوا تھااس دن وه بالكل بے حقيقت نظر آئيں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پر جی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔

آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس ليے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوسکا اس لیے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔

جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں۔