دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتوں ا ور اس کی جانب سے آئی ہوئی سختیوں سے مومن و غير مومن سب یکساں دوچار ہوتے ہیں۔ مگر آخرت میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں دونوں کے درمیان ’’آڑ‘‘ قائم ہوجائے گی۔ وہاں مومنین کو ملی ہوئی نعمتوں کی کوئی خوشبو كافروں کو نہیں ملے گی اور اسی طرح کافروں کو ملی ہوئی تکلیفوں کاکوئی اثر جنت والوں تک نہیں پہنچے گا۔
عرف کے معنی عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنھوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کوحق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اس کا انجام کیاہونے والا ہے اور داعیٔ حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا آخری طور پر صحیح ثابت ہوچکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے ليے اونچا اسٹیج مہیا کیاجائے گا جس پر کھڑے ہو کر وہ پہلے اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ اس کے امید وار ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا رخ ان کے جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ وہ ان کی بری حالت دیکھ کر کمالِ عبدیت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے اور ان سے کہیں گے تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس سازوسامان پر گھمنڈ تھا اور جس کی وجہ سے تم نے ہمارے پیغامِ حق کو جھٹلا دیا وہ آج تمھارے کچھ کام نہ آسکا۔
حق کا انکار کرنے والے وقت کے قائم شدہ نظام کے سایہ میں ہوتے ہیں۔ اس دنیامیں ان کی حیثیت ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ حق کے داعیوں کا ساتھ دیتے ہیں ان کا ساتھ دینا صرف اس قیمت پر ہوتاہے کہ وقت کے جمے ہوئے نظام کی سرپرستی انھیں حاصل نہ رہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حق کو نہیں مانتے وہ ماننے والوں کی بے چارگی کو دیکھ كر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔