You are reading a tafsir for the group of verses 7:44 to 7:45
ونادى اصحاب الجنة اصحاب النار ان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا قالوا نعم فاذن موذن بينهم ان لعنة الله على الظالمين ٤٤ الذين يصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجا وهم بالاخرة كافرون ٤٥
وَنَادَىٰٓ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ أَصْحَـٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّۭا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّۭا ۖ قَالُوا۟ نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ ٤٤ ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ كَـٰفِرُونَ ٤٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ان آیات میں قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنت اور جہنم تو ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور واقع ہوں گی،جنت آسمانوں کے اوپر ہوگی اور دوزخ سب سے نیچے تحت الثریٰ میں۔ پھر جنت والوں کی آوازیں جہنم والوں تک کس طرح پہنچیں گی۔ مگر اب ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دور میں یہ سوال کوئی سوال نہیں۔آج انسان یہ جان چکا ہے کہ دور کے فاصلوں سے کسی کو دیکھنا بھی ممکن ہے اور اس کی آواز سننا بھی۔ جو بات قدیم انسان کوناقابلِ فہم نظر آتی تھی وہ آج کے انسان کے ليے خود اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں پوری طرح قابلِ فہم ہوچکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی کوئی بات اگر آج کی معلومات کی روشنی میں سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس بنا پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ علم کے اضافہ کے بعد کل وہ چیز ایک جانی پہچانی چیز بن جائے جو آج بظاہر اَن جاني چیز کی طرح دکھائی دے رہی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخرت میں جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان تعلق موجودہ قسم کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعہ قائم ہوگا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جدید دریافتوں نے اس بات کو قابل فہم بنا دیا ہے کہ خدا کی کائنات میں ایسے انتظامات بھی ممکن ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ کر بھی دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھیں اور ایک دوسرے سے بخوبی طورپر بات کریں۔

کسی دلیل کا وزن آدمی اسی وقت سمجھ پاتاہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ جو لوگ آخرت کو اہمیت نہ دیں وہ آخرت سے متعلق دلائل کا وزن بھی محسوس نہیں کرپاتے۔آخرت کی بات ان کے سامنے انتہائی مضبوط دلائل کے ساتھ آتی ہے۔ مگر اس کے بارے میں ان کا غیر سنجیدہ ذہن اس کے اندر کوئی نہ کوئی عیب تلاش کرلیتاہے۔ وہ طرح طرح کے اعتراض نکال کر خود بھی شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک وشبہ میں مبتلا کرتے ہیں،ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ وہ آخرت میں صرف خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے خواہ دنیا میں وہ اپنے کو خدا کی رحمتوں کا سب سے بڑا حق دار سمجھتے رہے ہوں۔

کوئی دلیل خواہ کتنی ہی وزنی اور قطعی ہو، آدمی کے ليے ہمیشہ یہ موقع رہتا ہے کہ وہ کچھ خوب صورت الفاظ بول کر اس کی صداقت کے بارے میں لوگوں کو مشتبہ کردے۔ عوام ایک حقیقی دلیل اور ایک لفظی شوشہ میں فرق نہیں کر پاتے اس ليے وہ اس قسم کی باتیں سن کر حق سے بدک جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اس طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو حق سے بدکاتے ہیں وہ آخرت کے دن خدا کی رحمتوں سے آخری حد تک دور ہوںگے۔