You are reading a tafsir for the group of verses 7:38 to 7:39
قال ادخلوا في امم قد خلت من قبلكم من الجن والانس في النار كلما دخلت امة لعنت اختها حتى اذا اداركوا فيها جميعا قالت اخراهم لاولاهم ربنا هاولاء اضلونا فاتهم عذابا ضعفا من النار قال لكل ضعف ولاكن لا تعلمون ٣٨ وقالت اولاهم لاخراهم فما كان لكم علينا من فضل فذوقوا العذاب بما كنتم تكسبون ٣٩
قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ ٣٨ وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۢ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ ٣٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 38 قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط یعنی ایک ایک قوم کا حساب ہوتا جائے گا اور مجرمین جہنم کے اندر جھونکے جاتے رہیں گے۔ پہلی نسل کے بعد دوسری نسل ‘ پھر تیسری نسل و علیٰ ٰہذا القیاس۔ اب وہاں ان میں مکالمہ ہوگا۔ بعد میں آنے والی ہر نسل کے مقابلے میں پہلی نسل کے لوگ بڑے مجرم ہوں گے ‘ کیونکہ جو لوگ بدعات اور غلط عقائد کے موجد ہوتے ہیں اصل اور بڑے مجرم تو وہی ہوتے ہیں ‘ ان ہی کی وجہ سے بعد میں آنے والی نسلیں بھی گمراہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید میں اہل جہنم کے جو مکالمات مذکور ہیں ان کے مطابق بعد میں آنے والے لوگ اپنے پہلے والوں پر لعنت کریں گے اور کہیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہی ہم گمراہ ہوئے ‘ لہٰذا تم لوگوں کو تو دو گنا عذاب ملنا چاہیے۔ اس طریقے سے وہ آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے اور جھگڑیں گے۔کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَہَا ط حَتّٰیٓ اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْہَا جَمِیْعًالا قالَتْ اُخْرٰٹہُمْ لِاُوْلٰٹہُمْ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا دنیا میں تو یہ لوگ اپنی نسلوں کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ہمارے آباء و اَجداد تھے ‘ ہمارے قابل احترام اسلاف تھے۔ یہ طور طریقے انہی کی ریتیں ہیں ‘ انہی کی روایتیں ہیں اور ان کی ان روایتوں کو ہم کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ لیکن وہاں جہنم میں اپنے انہیں آباء واجداد کے بارے میں وہ علی الاعلان کہہ دیں گے کہ اے اللہ ! یہی ہیں وہ بد بخت جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔فَاٰتِہِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ط قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَعْلَمُوْنَ جیسے یہ لوگ تمہیں گمراہ کر کے آئے تھے ویسے ہی تم بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کر کے آئے ہو اور یہ سلسلہ دنیا میں اسی طرح چلتا رہا۔ یہ تو ہر ایک کو اس وقت چاہیے تھا کہ اپنی عقل سے کام لیتا۔ میں نے تم سب کو عقل دی تھی ‘ دیکھنے اور سننے کی صلاحیتیں دی تھیں ‘ نیکی اور بدی کا شعور دیا تھا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر برے بھلے کا خود تجزیہ کرتے اور اپنے آباء و اَجداد اور لیڈروں کی اندھی تقلید نہ کرتے۔ لہٰذا تم میں سے ہر شخص اپنی تباہی و بربادی کا خود ذمہ دار ہے۔