اُولٰٓءِکَ یَنَالُہُمْ نَصِیْبُہُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ط دنیا میں رزق وغیرہ کا جو معاملہ ہے وہ ان کے کفر کی وجہ سے منقطع نہیں ہوگا ‘ بلکہ دنیوی زندگی میں وہ انہیں معمول کے مطابق ملتا رہے گا۔ یہ مضمون سورة بنی اسرائیل میں دوبارہ آئے گا۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَہُمْ لا قالُوْٓا اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط اب کہاں ہیں وہ تمہارے خود ساختہ معبود جن کے سامنے تم ماتھے رگڑتے تھے اور جن کے آگے گڑ گڑاتے ہوئے دعائیں کیا کرتے تھے ؟