عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے ليے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائيگی کے حد تک قائم ہیں۔
انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے ليے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئي روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے ليے درست نہ ہو۔
آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس ليے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے ليے ہوں گی جن کے ليے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے ليے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس ليے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔