You are reading a tafsir for the group of verses 7:28 to 7:30
واذا فعلوا فاحشة قالوا وجدنا عليها اباءنا والله امرنا بها قل ان الله لا يامر بالفحشاء اتقولون على الله ما لا تعلمون ٢٨ قل امر ربي بالقسط واقيموا وجوهكم عند كل مسجد وادعوه مخلصين له الدين كما بداكم تعودون ٢٩ فريقا هدى وفريقا حق عليهم الضلالة انهم اتخذوا الشياطين اولياء من دون الله ويحسبون انهم مهتدون ٣٠
وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَـٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٢٨ قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ ٢٩ فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَـٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَـٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ٣٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔

قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔

حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔