دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کرکے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔
خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور ا سی کے ساتھ وه اس کے حسن ووقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لیے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتاہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے— اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک معیار رکھنا، اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو وہ اپنے اندرونی وجود كو ملبوس کرتاہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کرليتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔
آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتاہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیںنازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتاہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتاہے۔کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتاہے۔
شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتاہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں كرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرکے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتاہو۔