آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔
آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔
شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔
اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔