مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خداکے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے ليے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔
مثلاً فرض کیجيے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے جدید طرز کی ایک موٹر کار اتاردی جاتی جس میں لاؤڈاسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے ليے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے ليے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرا رہ جاتا اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔
کراماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرنے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل ودماغ پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیداکردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔
آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس ليے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تاکہ تمھیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتاہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔