ان الذين اتقوا اذا مسهم طايف من الشيطان تذكروا فاذا هم مبصرون ٢٠١
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَـٰٓئِفٌۭ مِّنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ ٢٠١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قرآن کریم ایک داعی کی نفسیاتی تسلی کے لیے ایک دوسرا تاثر بھی دیتا ہے کہ داعی کی مشکلات اس کے حق میں اللہ کے نزدیک سامان قبولیت ہیں اور شیطان کے وسوسوں اور اکساہٹؤں کے دفعیے کے لیے اہم ہتھیار تقوی اور ذکر الٰہی ہے۔

۔۔۔۔

اس مختصر آیت میں عجیب تاثرات دئیے گئے ہیں۔ جو گہرے حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ تاثرات قرآن کریم کے خوبصورت انداز کلام سے معلوم ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر کو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ فاذا ھم مبصرون۔ " انہیں اچانک نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے "

یہ آخری فقرہ پوری آیت کو بیشمار معانی عطا کرتا ہے حالانکہ سابقہ آیات کے الفاظ میں ان معانی کے لیے کوئی لفظ اشارہ تک نہیں کرتا۔ اس آخری فقرے نے یہ بات بتائی کہ جب انسان کے احساس کو شیطانی خیال چھوتا ہے تو انسان کی فکر و نظر ایک مختصر وقت کے لیے معطل ہوجاتی ہے۔ لیکن تقویٰ ، خدا خوفی اور اللہ کی یاد اور خشیت الٰہی وہ گہرا رابطہ ہے جو دلوں کو اللہ سے جوڑے رکھتا ہے اور انہیں بار بار غفلت سے جگاتا ہے اور ہدایت دیتا رہتا ہے۔ اہل تقوی کو جب حقیقت یاد آجاتا ہے تو ان کی فکر و نظر اور شعور سے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ اچانک وہ راہ دیکھ لیتے ہیں جن پر انہیں چلنا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کا مس انسان کو اندھا کردیتا ہے اور اللہ کی یاد انسان کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ مس شیطان ظلمت اور تاریکی ہے اور اللہ کی طرف رجحان نور اور روشنی ہے۔ مس شیطان کا علاج صرف تقوی اور یاد لۃٰ سے ہوسکتا ہے اور جن لوگوں میں تقوی اور ذکر الہی ہو ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔

متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب شیطان کے اثر سے برا خیال انہیں چھو بھی لے تو وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور صحیح راہ دیکھنے لگتے ہیں۔