You are reading a tafsir for the group of verses 7:195 to 7:198
الهم ارجل يمشون بها ام لهم ايد يبطشون بها ام لهم اعين يبصرون بها ام لهم اذان يسمعون بها قل ادعوا شركاءكم ثم كيدون فلا تنظرون ١٩٥ ان وليي الله الذي نزل الكتاب وهو يتولى الصالحين ١٩٦ والذين تدعون من دونه لا يستطيعون نصركم ولا انفسهم ينصرون ١٩٧ وان تدعوهم الى الهدى لا يسمعوا وتراهم ينظرون اليك وهم لا يبصرون ١٩٨
أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ ١٩٥ إِنَّ وَلِـِّۧىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَـٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّـٰلِحِينَ ١٩٦ وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ١٩٧ وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ١٩٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔

تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔

غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔