You are reading a tafsir for the group of verses 7:179 to 7:183
ولقد ذرانا لجهنم كثيرا من الجن والانس لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها ولهم اذان لا يسمعون بها اولايك كالانعام بل هم اضل اولايك هم الغافلون ١٧٩ ولله الاسماء الحسنى فادعوه بها وذروا الذين يلحدون في اسمايه سيجزون ما كانوا يعملون ١٨٠ وممن خلقنا امة يهدون بالحق وبه يعدلون ١٨١ والذين كذبوا باياتنا سنستدرجهم من حيث لا يعلمون ١٨٢ واملي لهم ان كيدي متين ١٨٣
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌۭ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌۭ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَـٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَـٰفِلُونَ ١٧٩ وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَـٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٨٠ وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ ١٨١ وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ١٨٢ وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ ١٨٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔

سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔

خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔

خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔