۞ واذ نتقنا الجبل فوقهم كانه ظلة وظنوا انه واقع بهم خذوا ما اتيناكم بقوة واذكروا ما فيه لعلكم تتقون ١٧١
۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَـٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ١٧١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اس قصے کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کس طرح پکڑا۔

۔۔۔

وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ ۔

یہ ناقابل فراموش عہد تھا ، کیونکہ یہ ایسے ظروف و احوال میں لیا گیا تھا جسے بھلا نہیں جاسکتا۔ یہ عہد اس وقت لیا گیا کہ جب پہاڑ ان پر اس طرح چھا گیا کہ گویا چھتری ہے۔ وہ یہی گمان کر رہے تھے کہ ابھی گرا۔ اس لیے کہ عہد لیتے ہی وہ سرکشی کرنے لگے تھے۔ اس لیے ان سے ایسی صورت میں عہد لیا گیا تھا کہ اس کے بعد وہ دوبارہ عہد شکنی کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ ان غیر معمولی حالات میں ان سے کہا گیا کہ کتاب اللہ کو سنجیدگی سے لو۔ سختی سے اس پر عمل کرو ، اس میثاق کے بعد بد عہدی ، سست روی اور پسپائی اختیار نہ کرو ، کتاب اللہ کی ہدایات کو یاد رکھو۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح تمہارے دل پسیج جائیں اور تمہارا تعلق باللہ قائم رہے۔

لیکن بنی اسرائیل ، بنی اسرائیل ہی رہے۔ ان پر اللہ کی بات سچ ثابت ہوگئی تھی ، اللہ نے انہیں اپنے وقت کی سپر پاور بنا دیا تھا۔ ان پر نعمتوں کی بارش کردی تھی۔ لیکن انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔ اللہ کے عہد کا کوئی پاس نہ رکھا۔ ان کو میثاق الٰہی یاد ہی نہ رہا اس لیے وہ اس انجام تک پہنچے ورنہ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔