وقطعناهم اثنتي عشرة اسباطا امما واوحينا الى موسى اذ استسقاه قومه ان اضرب بعصاك الحجر فانبجست منه اثنتا عشرة عينا قد علم كل اناس مشربهم وظللنا عليهم الغمام وانزلنا عليهم المن والسلوى كلوا من طيبات ما رزقناكم وما ظلمونا ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ١٦٠ واذ قيل لهم اسكنوا هاذه القرية وكلوا منها حيث شيتم وقولوا حطة وادخلوا الباب سجدا نغفر لكم خطيياتكم سنزيد المحسنين ١٦١ فبدل الذين ظلموا منهم قولا غير الذي قيل لهم فارسلنا عليهم رجزا من السماء بما كانوا يظلمون ١٦٢
وَقَطَّعْنَـٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَـٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ١٦٠ وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٔـٰتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ ١٦١ فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ ١٦٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔
پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔
’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔
یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔