You are reading a tafsir for the group of verses 7:158 to 7:159
قل يا ايها الناس اني رسول الله اليكم جميعا الذي له ملك السماوات والارض لا الاه الا هو يحيي ويميت فامنوا بالله ورسوله النبي الامي الذي يومن بالله وكلماته واتبعوه لعلكم تهتدون ١٥٨ ومن قوم موسى امة يهدون بالحق وبه يعدلون ١٥٩
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَـٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ١٥٨ وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ ١٥٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

’’کہو میں سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے تمام پیغمبر قومی پیغمبر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین اقوامی پیغمبر ہیں۔ یہ بات بطور تقابل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بطور واقعہ کہی گئی ہے۔

اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک براہِ راست، دوسری بواسطۂ امت۔ آپ کی براہِ راست بعثت عرب کے ليے تھی (الانعام، 6:92 ) اور آپ کی بالواسطہ بعثت سارے عالم کے ليے ہے (الحج، 22:78 ) حکماً یہی نوعیت خدا کے تمام پیغمبروں کی تھی۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہ سکا۔ اس ليے یہ ممکن نہیں ہوا کہ وہ تمام عالم کے ليے نذیر وبشیر بنتے۔ آج مسیحیت کی تبلیغ سارے عالم ميں بہت بڑے پیمانہ پر ہورہی ہے۔ اس کے باوجود حضرت مسیح کی نبوت صرف فلسطین تک محدود ہوکر رہ گئی۔ کیوںکہ حضرت مسیح کے بعد ان کی تعلیمات اپنی اصل حالت میں باقی نهيں رہیں۔ آج مسیحیت کے نام سے جو دین لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ حقیقۃً سینٹ پال کا دین ہے، نہ کہ مسیح کا دین۔ گویا نبیوں کے وسعت کار میں جو فرق ہے وہ فرق باعتبار واقعه ہے، نہ کہ باعتبار تفویض۔

پیغمبر عربی کے متعلق بائبل میں یہ پیشین گوئی ہے کہ زمین کے سب قبیلے اس کے وسیلے سے برکت پائیں گے (پیدائش، 12:1-3 ) سب قوموں تک آپ کی برکت پہنچنا اس ليے ممکن ہوسکا کہ آپ کا لایا ہوا دین محفوظ ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کا دین محفوظ نہیں۔ اس ليے بظاہر اس کی آواز سب تک پہنچ کر بھی اس کی برکت سب تک نہ پہنچ سکی۔

عرب میں یہودی قبائل آباد تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو یہ فخر تھا کہ ان کے پاس خدا کی مقدس کتاب ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے کے ليے سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ ان کا یہ احساس کہ وہ سب سے بڑی سچائی کو ليے ہوئے ہیں ان کے ليے کسی دوسرے کی طرف سے آنے والی سچائی کو قبول کرنے میں مانع ہوجاتاہے۔ یہی حال یہود کا ہوا۔ ان کی بہت بڑی اکثریت ضد اور تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی۔ صرف چند لوگ (عبد اللہ بن سلّام وغیرہ) ایسے نکلے جنھوںنے کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھا۔ انھوںنے اپنی دنیوی عزت کی پروا كيے بغیر اس کی صداقت کا اعلان کیا اور اپني دنیوی زندگی کو اس کے حوالے کردیا۔

’’رسول ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات (ارشادات) پر‘‘۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ فلسفیوں کے خدا اور پیغمبر کے خدا میں کیا فرق ہے۔ فلسفی کا خدا ایک مجرد روح هے۔ اس کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے کائنات میں قوت کشش کو ماننا۔ قوت کشش نہ بولتی اور نہ حکم دیتی هے۔ مگر پیغمبر کا خداایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ وہ انسانوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو حکم دیتاہے اور اس حکم کے ماننے یا نہ ماننے پر ہر ایک کے ليے انعام یا سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔