You are reading a tafsir for the group of verses 7:144 to 7:145
قال يا موسى اني اصطفيتك على الناس برسالاتي وبكلامي فخذ ما اتيتك وكن من الشاكرين ١٤٤ وكتبنا له في الالواح من كل شيء موعظة وتفصيلا لكل شيء فخذها بقوة وامر قومك ياخذوا باحسنها ساريكم دار الفاسقين ١٤٥
قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَـٰلَـٰتِى وَبِكَلَـٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ ١٤٤ وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ١٤٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت موسیٰ کو پہلی بار نبوت پہاڑ کے اوپر ملی تھی اور دوسری بار بھی تورات کے احکام ان کو پہاڑ پر بلا کر ديے گئے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ خدا کافیضان حاصل کرنے کی سب سے زیادہ موزوں جگہ فطرت کا ماحول ہے، نہ کہ انسانی آبادیوں کا ماحول۔ انسانوں کی پرشور دنیا سے نکل کر آدمی جب پتھروں اور درختوں کی خاموش دنیا میں پہنچتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ مصنوعی احساسات سے خالی ہو کر اپنی فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ کسی آدمی کے ليے بہترین لمحہ ہوتا ہے جب کہ وہ بے آمیز فطری انداز میں سوچے اور یکسو ہو کر اپنے رب سے جُڑ سکے۔

پیغمبر عام انسانوں میں سے ایک انسان ہوتاہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہوتا۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائشی استعداد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اس ليے خدا اس کو چنتاہے کہ وہ اس کے پیغام کا حامل بنے اور لوگوں کے درمیان اس کی قابلِ اعتماد نمائندگی کرے۔ حضرت موسیٰ اس وقت اپنی قوم کے بہترین شخص تھے اس ليے خدا نے ان کو اپنا پیغمبر چنا اور ان پر اپنا کلام اتارا۔

خدا کے كلام میں اگر چہ ہدایت سے متعلق ہر قسم کی ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے مگر وہ الفاظ میں ہوتی ہے اور موجودہ امتحانی دنیا میں بہر حال اس کا امکان باقی رہتاہے کہ آدمی ان الفاظ کی غلط تشریح کرکے اس کو غیر مطلوب معنی پہنا دے۔ مگر جو شخص ہدایت کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو وہ ان الفاظ سے وہی معنی لے گا جو کلام الٰہی کے شایانِ شان ہے، نہ کہ وہ جو اس کے نفس کو مرغوب ہے۔

’’میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا‘‘، یعنی اپنے اس سفر میں آگے چل کر تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزروگے جنھیں اس سے پہلے خدا کی ہدایت دی گئی تھی۔ مگروہ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ حالات کے دباؤ یا جذبات کے میلان کو نظرانداز کرکے وہ اس پر ٹھیک طرح قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ہلاک کرديے گئے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارا انجام بھی دنیا وآخرت میں وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا۔ خدا کا معاملہ جیسا ایک قوم کے ساتھ ہے ویسا ہی معاملہ دوسری قوم کے ساتھ ہے۔ عدل الٰہی کی میزان میں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر احسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کردیتی ہے۔