واورثنا القوم الذين كانوا يستضعفون مشارق الارض ومغاربها التي باركنا فيها وتمت كلمت ربك الحسنى على بني اسراييل بما صبروا ودمرنا ما كان يصنع فرعون وقومه وما كانوا يعرشون ١٣٧
وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَـٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَـٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ ١٣٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 137 وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا ط۔ یہاں پر مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا کی ترکیب کی خاص ادبی literary اہمیت ہے جو فقرے میں ایک خوبصورت rhythm پیدا کر رہی ہے۔ اس آیت کا سادہ مفہوم یہی ہے کہ بنی اسرائیل جو مصر میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کو وہاں سے اٹھا کر پورے فلسطین کا وارث بنا دیا۔ ارض فلسطین کی خصوصی برکت کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں بھی بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ سرزمین اس لیے بھی متبرک ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہ سینکڑوں انبیاء کا مسکن و مدفن رہی ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک امتیازی نوعیت کی زرخیزی سے نوازا ہے۔وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَلا بِمَا صَبَرُوْا ط۔ ان میں سے جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے انہوں نے واقعتا سخت ترین آزمائشوں پر صبر کیا اور ثابت قدمی دکھائی اور اس سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا۔وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی ساری تعمیرات اور ان کے سارے باغ و چمن ملیا میٹ کردیے گئے۔ اب اگلی آیات میں بنی اسرائیل کے مصر سے صحرائے سینا تک کے سفر کا تذکرہ ہے۔ یہ واقعات مدنی سورتوں میں بھی متعدد بارآچکے ہیں۔ Old Testament کی کتاب الخروج Exodus میں بھی اس سفر کی کچھ تفصیلات ملتی ہیں۔