انبیاء کی مخاطب قوموں پر جو عذاب آتاہے وہ تکذیب آیات کی بنا پر آتاہے۔ یعنی نشانیوں کو جھٹلانا۔ اس کے مقابلہ میں انبیاء کے ساتھیوں پر جو خصوصی نصرت اترتی ہے اس کا استحقاق ان کو صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، یعنی اپنے جذبات کو تھام کر اللہ کے طریقہ پر ثابت قدم رہنا۔
نشانیوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو حق کو حق ثابت کرنے والے ہوتے ہیں مگرآدمی اپنی متکبرانہ نفسیات کی وجہ سے ان کو ماننے پر قادر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کے معاملہ کو دلیل پیش کرنے والے کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ اگر میں نے دلیل مان لی تو فلاں شخص کے مقابلہ میں میرا مرتبہ گھٹ جائے گا۔ وہ دلیل پیش کرنے والے كے مقابلہ میں اپنے آپ كو اونچا رکھنے کی خاطر دلیل کی برتري کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہی انسان کی آزمائش کا اصل مقام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نشانیوں یا دلائل کے پردہ میں ظاہر ہوتا ہے، آخرت ميں وہ بے حجاب ہو کر ظاہر ہوجائے گا۔ مگر ایمان وہی معتبر هے جب کہ آدمی غيب ميں چھپے هوئے حق کو پالے۔ اس كے برعكس، قيامت كے دن حق كو سامنے ديكھ كر اس كو ماننا صرف آدمی کے جرم کو ثابت کرے گا، نہ کہ وہ اس کو انعام کا مستحق بنائے گا۔ ایسا اقرار صرف اس بات کا ثبوت ہوگا کہ آدمی نے اپنی بے پروائی کی وجہ سے حق کو نہ جانا۔ اگر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتا تو یقینا ًوہ اس کو جان لیتا۔
اس کے مقابلہ میں خدا کے وفادار بندے وه ہیں جن کی سب سے نمایاں خصوصیت صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی زندگی سراسر صبر کی زندگی ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی زبان سے حق کا اعلان سن کر اس کو مان لینا، عادتوں اور مصلحتوں پر قائم شدہ زندگی کو حق اور اصولوں کی بنیاد پر قائم کرنا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں کو خدا کی خاطر نظر انداز کرنا، حق کے مخالفین کی ڈالی ہوئی مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہونا، یہ سب ایمان کے لازمی مراحل ہیں اور آدمی صبر کے بغیر ان مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔
فرعون کو اپنے اقتدار پر اور اپنے باغوں اور عمارتوں پر گھمنڈ تھا۔ حضرت موسیٰ کی ہجرت کے بعد فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اولوں اور ٹڈیوں نے مصر کے سرسبز وشاداب باغات کو اجاڑ دیا اور زلزلوں نے ان کی شان دار عمارتیں ڈھادیں۔ دوسری طرف حضرت موسی کی چند نسلوں کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں بنی اسرائیل اطراف مصر (شام وفلسطین) پر قابض ہوگئے۔ نشانیوں کو جھٹلانے والے ہمیشہ خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیںاور صبر کرنے والے ہمیشہ خدا کی نصرت کے۔