حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔
حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف،
مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔
آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔