فاذا جاءتهم الحسنة قالوا لنا هاذه وان تصبهم سيية يطيروا بموسى ومن معه الا انما طايرهم عند الله ولاكن اكثرهم لا يعلمون ١٣١
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَـٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَـٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٣١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 131 فَاِذَا جَآءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ہٰذِہٖ ج وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ط اَلَآ اِنَّمَا طآءِرُہُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ جب ان کے حالات قدرے بہتر ہوتے یعنی فصلیں وغیرہ ٹھیک ہوجاتیں ‘ خوشحالی آتی اور ان کو آسائش حاصل ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ ہماری محنت ‘ منصوبہ بندی اور کوشش کا نتیجہ ہے ‘ یہ ہمارا استحقاق ہے۔ اور جب ان کو فصلوں میں نقصان ہوتا یا کسی اور قسم کے مالی نقصانات کا انہیں سامنا کرنا پڑتا تو وہ اس سب کچھ کی ذمہ داری حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں پر ڈال دیتے کہ ہمارا یہ نقصان ان کی نحوست کی وجہ سے ہوا ہے۔