حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔
فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔
اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔
جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔