زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتاہے ۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالي کے تمام مقامات پر قابض ہوجاتی ہے۔
یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالا تر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے۔ وہ جان سکتاہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج وزوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے ليے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
خدا نے آنکھ کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس ليے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاهيے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایساہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاںتک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل ودماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔
انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے ليے خداکے پیغمبرآئے۔ اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعے اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کردیاگیا جنھوںنے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر كيے ہوئے عہد اسلام کوبھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جوپہلی بار مومنینِ آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے ليے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔