واما من .................... الماوی (41:79) ” اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے بازرکھا تھا ، جنت اس کا ٹھکانہ ہوگی۔ “ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے ، وہ کبھی بھی کسی معصیت کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اگر کبھی بشری کمزوری سے اس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو یہ خوف اسے ندامت اور استغفار پر مجبور کردیتا ہے اور وہ توبہ کرتا ہے اور اس طرح وہ اطاعت کے دائرے میں دوبارہ داخل ہوجاتا ہے۔
نفس کو خواہشات سے باز رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ انسان دائرہ اطاعت سے باہر نہ نکلے ، کیونکہ خواہشات نفسانیہ ہی انسانوں کو نافرمانی ، طغیانی اور سرکشی پر آمادہ کرتی ہیں۔ آزمائش اور شرکا راستہ ہی خواہشات نفسانیہ ہیں۔ شیطان انسان پر اسی راستہ سے حملہ آور ہوتا ہے۔ جہالت کا علاج بہت آسان ہے۔ لیکن جانتے بوجھتے خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرنا بہت بڑی مصیبت اور آزمائش ہوتی ہے۔ اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
خواہشات نفسانیہ کے دباﺅ کا مقابلہ صرف خشیت الٰہیہ سے کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کے ڈر کے سوا کوئی ہتھیار اس دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ایک ہی آیت میں ان کو جمع کیا ہے۔ اور بات کون کررہا ہے ؟ وہ ذات جس نے نفس انسانی کو پیدا کیا ہے۔ بیماری بھی وہی بتاتا ہے اور علاج بھی۔ انسانی نفس کے نشیب و فراز سے اس کا خالق ہی باخبر ہے۔ اس ذات کو معلوم ہے کہ اس مخلوق میں کس جگہ کمزوریاں ہیں اور ان کا علاج کیا ہے ؟ ان خفیہ کمزوریوں کا تعاقب کس طرح کیا جاسکتا ہے اور اس کے کیا طریقے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ اس کے نفس کے اندر خواہش ہی نہ ہو ، بلکہ اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ نفس کو روکے ، اس کو لگام دے ، اور خواہشات کو ذرا دبا کر رکھے۔ اور اس معاملے میں خدا خوفی سے استعانت حاصل کرکے کہ ایک دن اس نے رب جلیل کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اور اگر وہ نفس کی خواہشات پر کنٹرول کرے گا تو اس کا عوضانہ اسے جنت ملے گی اور یہ اس کا ٹھکانہ ہوگی۔